Thursday, March 4, 2021
malegaontimes

افغانستان سے بیرونی فوجیوں کے جانے کے بعد کیا ہوگا؟ شیعہ ہزارہ برادری کو تشویش

افغانستان میں ہزارہ اقلیتی برادری طالبان دور سے لے کر اب تک قتل، تشدد، تعاقب، اغوا اور ایذا رسانی کا شکار رہی ہے۔ اب ایک ملیشیا گروہ اسے اپنی صفوں میں شامل ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔افغانستان کی ہزارہ نسلی برادری کے ایک رکن حمید اللہ اسدی کو بالکل واضح اشارہ مل گیا تھا کہ وہ یا تو اپنی برادری کے خلاف اگلے مہلک حملے کا منتظر رہے یا پھر پہاڑوں میں موجود ایک ملیشیا گروپ میں شامل ہو جائے۔



کئی مہینے ‘اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش) کے خودکش حملہ آوروں کی وجہ سے لگنے والے شدید زخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد وہ لڑنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اسدی کا کہنا ہے، ”ہمیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔‘‘ اسدی اب مزاحمت برائے انصاف نامی تحریک کا ترجمان ہے۔ اس تحریک کا گڑھ  ملک کے ناہموار اور برف پوش وسطی علاقے میں واقع ہزارہ میں ہے۔ حمید اللہ اسدی کہتا ہے، ”ان لوگوں سے، جنہوں نے ہمارا دفاع کرنا تھا، ہماری توقعات پوری نہیں ہوئیں۔‘‘

افغان سکیورٹی فورسز کو ایک ایسے وقت پر طاقت ور طالبان عناصر کو قابو میں رکھنے کے لیے بہت جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے، جب ملک سے بین الاقوامی فوجی دستوں کا انخلا جاری ہے۔ دوسرے یہ کہ متحارب فریقین کے مابین امن مذاکرات بھی سست روی کا شکار ہیں۔اب کابل میں مرکزی حکومت کے ممکنہ خاتمے اور ملک کے ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہو جانے کے خوف سے  ہزارہ باشندوں نے اپنے لیے بدترین صورتحال کی تیاری شروع کر دی ہے۔

افغانستان کی 4 کروڑ کی آبادی کا قریب 10 سے 20 فیصد ہزارہ نسلی گروپ پر مشتمل ہے۔ یہ برادری ایک طویل عرصے سے اپنے اکثریتی طور پر شیعہ عقیدے کی وجہ سے تعاقب کا شکار ہے اور سخت گیر سنی گروپوں کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔

mt ads

error: Content is protected !!