Friday, February 26, 2021
malegaontimes

آئی ڈی بی آئی بینک، ایئر انڈیا سمیت یہ چیزیں بیچ رہی ہے مودی حکومت

یکم فروری کو مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے مالی سال 22-2021 کے لیے عام بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیا۔ بجٹ تقریر کے بعد کئی سیاسی لیڈروں نے مودی حکومت پر ‘ملک کو فروخت کرنے والا بجٹ’ پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مودی حکومت پر یہ الزام اس لیے لگ رہا ہے کیونکہ بجٹ میں نجکاری کے راستے ہموار کیے گئے ہیں، گویا کہ کئی چیزیں پرائیویٹ ہاتھوں میں جاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں کہ آخر مودی حکومت نے کن اہم اداروں یا کمپنیوں میں اپنی حصہ داری کو بیچنے کا منصوبہ تیار کیا ہے.

بی پی سی ایل:

بی پی سی ایل کی شراکت داری بیچنے سے حکومت کو تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے مل سکتے ہیں۔ حکومت اپنی 52.98 فیصد حصہ داری فروخت کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ بی پی سی ایل ملک کی دوسری سب سے بڑی تیل کمپنی ہے اور اس کی بیلنس شیٹ بہت مضبوط ہے۔ یہ کمپنی حکومت کے لیے ہمیشہ منفعت بخش ثابت ہوتی رہی ہے۔

ائیر انڈیا:

قرض میں ڈوبی سرکاری ائیرلائنس کمپنی ائیر انڈیا سے حکومت چھٹکارا پانا چاہتی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ آئندہ مالی سال میں حکومت اسے بیچنے میں کامیاب رہے گی۔ موجودہ وقت میں ائیر انڈیا پر 60074 کروڑ روپے کا قرض ہے، لیکن قبضہ کے بعد خریدار کو 23286.5 کروڑ روپے ہی ادا کرنے ہوں گے۔ سرکار اس بین الاقوامی شہری ہوابازی کمپنی کی پوری حصہ داری بیچنے کے لیے تیار ہے۔

ایل آئی سی کا آئی پی او:

وزیر مالیات نے کہا کہ اگلے مالی سال میں سرکاری انشورنس کمپنی ایل آئی سی کا آئی پی او لانچ کرنے کی تیاری میں ہے۔ ایل آئی سی میں حصہ داری بیچنے کے لیے سرکار کو قانون میں کچھ ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ایل آئی سی میں اپنی 25 فیصد حصہ داری کم کرے گی۔ یہ حصہ داری کئی مراحل میں کم ہوں گی۔

آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری:

سرکار آئی ڈی بی آئی بینک میں اپنی حصہ داری بیچنے کی تیاری میں ہے۔ آئی ڈی بی آئی بینک میں ایل آئی سی کی 51 فیصد اور حکومت کی 47 فیصد حصہ داری ہے۔ ایل آئی سی ‘آئی ڈی بی آئی’ بینک میں اپنا حصہ بیچنے کی خواہشمند ہے۔ سرکار آئی ڈی بی آئی بینک کے علاوہ پبلک سیکٹر کے دو دیگر بینکوں اور ایک جنرل انشورنس کمپنی کی نجکاری بھی 22-2021 میں کرنا چاہتی ہے۔

error: Content is protected !!