Saturday, February 27, 2021
malegaontimes

ایودھیا میں زیر تعمیر مسجد میں نماز پڑھنا حرام: اسدالدین اویسی

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ اس سے کچھ دوری پر پانچ ایکڑ قطع اراضی پر مسجد کے کام کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔جس کی تعمیر کیلئے چندہ جمع کیا جارہا ہے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسد الدین اویسی نے ایودھیا میں زیر تعمیر مسجد میں نماز پڑھنا حرام قرار دیا ہے۔انہوں نے ایک ریلی کے دوران مذکورہ بیان دیا ہے۔حالانکہ ایودھیا معاملے کے مدعی رہے ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری اور ہندو مذہب کے کارکن سوامی پرم ہنس نے اسدالدین اویسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اویسی نے کہا کہ بابری ماجد کی جگہ پانچ ایکڑ زمین لے کر مسجد بنا رہے ہیں، ایک مجاہد آزادی احمد اللہ کا نام رکھنا چاہتے ہیں، اے ظالموں چلّو بھر پانی میں ڈوب مرو، اگر احمد اللہ زندہ ہوتے تو کہتے کہ یہ مسجد ضرار ہے۔میں نے تمام مسالک کے علماء سے پوچھا، مفتیان سے پوچھا، ذمہ داروں سے پوچھا تو سب نے کہا کہ اس مسجد میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔بابری مسجد کی شہادت کے بدلے دی گئی پانچ ایکڑ زمین پر بنائی جارہی مسجد میں نماز پڑھنا حرام ہے۔اویسی کے اس بیان پر پرم ہنس نے کہا کہ اسدالدین اویسی ملک کا ایسا غدار شخص ہے جو بھڑکاؤ بیانات دے کر ہمیشہ لڑانے کی بات کرتا ہے۔اگر سپریم کورٹ میں جو بھی فیصلہ ہوا اس پر سوال اٹھایا جارہا ہے تو یہ سپریم کورٹ پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔یہ غیر آئینی ہے۔اویسی جیسے لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔یہ ہمیشہ ملک کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔

دوسری جانب ایودھیا بابری مسجد معاملے کے مدعی رہے ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے کہا کہ اویسی جی نے جو کچھ بھی کہا کہ انہوں نے فتوی جاری کیا ہے کہ لوگ اس مسجد میں نماز نہ پڑھیں اور مسجد کی تعمیر میں چندہ نہ دیں۔قوم کو چاہیے کہ ان کی باتوں پر بالکل دھیان نہ دیں۔کیونکہ سپریم کورٹ حکم جاری کردیا ہے اور پانچ ایکڑ زمین دے دی ہے۔اس پر مسجد کی تعمیر جاری ہے، کام جاری رہنے دیں۔کیونکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا جو مقدمہ تھا وہ اب ختم ہوچکا ہے، اب ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد ہے۔ مسجد اور مندر کی سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے۔اویسی صاحب کو چاہیے کہ ایسا فتوی نہ دیں جو ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ٹھیک نہ ہو۔

error: Content is protected !!