Saturday, February 27, 2021
malegaontimes

بابری مسجد کے بدلے ملی جگہ پر دھنی پور مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا

یوم جمہوریہ کے موقع پر آج ایودھیا میں ’دھنّی پور مسجد‘ کا علامتی سنگ بنیاد رکھا گیا۔ انڈو اسلامک کلچر فاونڈیشن نے شہید بابری مسجد کی جگہ دھنّی پور میں ملی زمین پر آج سب سے پہلے پرچم کشائی کی اور پھر قومی گیت گایا گیا۔ بعد ازاں فاونڈیشن کے سبھی 9 اراکین نے ایک ایک پودا لگا کر تعمیرمسجد کی علامتی شروعات کی۔ قابل ذکر ہیکہ یہاں پر مسجد کے علاوہ ایک لائبریری، ایک ریسرچ سنٹر اور کمیونٹی کچن بھی تعمیر ہوگا۔ اس کچن میں کسی کو بھی کھانا کھانے کی اجازت ہوگی اور روزانہ 1000 لوگوں کو کھانا کھلانے کا بندوبست رہے گا۔

تعمیرمسجد کی علامتی شروعات کے موقع پر رام مندر تحریک سے جڑے کچھ مسلم طبقہ کے لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ ہندو بھی شامل تھے جنھوں نے رام مندر کے لیے تحریک چلائی تھی۔ یوں دھنّی پور مسجد کی علامتی بنیاد رکھے جانے کے موقع پر گنگا۔جمنی تہذیب کا عکس پیش کرنے کی کوشش ہوئی۔ اس موقع پر فاونڈیشن کے چیئرمین ظفر فاروقی نے بتایا کہ مسجد کی تعمیر کے لئے ہمیں ابھی تکنیکی تفصیلات کی ضرورت ہو گی۔ آج شجرکاری کے ساتھ کام شروع ہوا ہے، ایک بار جب نقشہ منظور ہو جائے گا تو باضابطہ طور پرتعمیر مسجد کا کام شروع ہو جائے گا۔ ظفر فاروقی نے یہ بھی بتایا کہ پرچم کشائی اور شجرکاری کے ساتھ مٹی کی ٹیسٹنگ کا کام بھی شروع ہو گیا ہے تاکہ آگے کی کارروائی تیزی سے ہو سکے۔

فاونڈیشن کے سکریٹری اطہر حسین نے شجرکاری کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ’’ آج ہم لوگوں نے یہاں دھنّی پور مسجد کی تعمیر کی علامتی شروعات کر دی ہے، جس کے تحت ہم نے یہاں پر ایک پروگرام منعقد کیا ہے۔ مسجد کی تعمیر کے ساتھ ایک ہاسپٹل کا منصوبہ ہے جو 200 بستروں کا ہوگا اور ایک انڈو اسلامک کلچر ریسرچ سنٹر بھی تعمیر کیا جائے گا ۔ ایک میوزیم، ایک لائبریری، ایک پبلی کیشن ہاوس کے ساتھ ساتھ ایک کمیونٹی کچن ہوگا۔‘‘ انھوں نے امید ظاہر کی کہ تعمیرمسجد 30 مہینے میں مکمل کر لی جائے گی۔ اس موقع پر لکھنو میں پرانے ٹیلے والی مسجد کے امام سید واصف حسن بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم گنگا جمنی تہذیب کی بات کرتے ہیں، ہمارا ملک ایک گلدستہ کی مانند ہے اور یہی چیز ہمیں سب سے منفرد بناتی ہے۔

error: Content is protected !!