malegaontimes

بھارت اور چین معاملہ : بی سی آئی نے کہا کہ ویووکے ساتھ کیا گیا معاہدہ ختم نہیں ہوگا

لداخ کی وادی گالان میں بھارت اور چین کے درمیان خونی تنازعہ کے بعد ملک بھر میں چینی سامان اور کمپنیوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھی کہ اس کا اثر انڈین پریمیر لیگ اور ٹیم انڈیا پر بھی پڑے گا۔ لیکن جمعرات کو بی سی سی آئی کے خزانچی ارون کمار دھومل نے واضح کیا کہ بورڈ اگلے چکر کے لیے اپنی کفالت پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن Vivo کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم نہیں کرے گا۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ انڈین پریمیر لیگ کا ٹائٹل اسپانسر چینی اسمارٹ فون کمپنی Vivo ہے ۔ صرف یہی نہیں کمپنی ٹورنامنٹ کے دوران سب سے زیادہ اشتہار بھی دیتی ہے۔ خزانچی ارون دھومل نے کہا کہ ہمیں Vivo کی کفالت ذریعے ہر سال 440 کروڑ روپے ملتے ہیں اور کمپنی کے ساتھ ہمارا معاہدہ 2022 تک ہے اس کے بعد ہی کفالت کا جائزہ لیا جائے گا۔ پچھلے سال ستمبر تک چینی موبائیل کمپنی Oppo ہندوستانی ٹیم کا کفیل تھا۔ لیکن اس کے بعد بنگلور میں استھک شکسینک اسٹارٹ اپ نے چینی کمپنی کی جگہ لی۔ دھومل نے کہا کہ وہ چینی مصنوعات پر انحصار کم کرنے کے حق میں ہیں۔ لیکین جب تک انہیں ہندوستان میں کاروبار کرنے کی اجازت ہے آئی پی ایل جیسے ہندوستانی برانڈز کی کفالت کرنے میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔

دھومل نے کہا “اگر میں ایک چینی کمپنی کو ہندوستان میں کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کا معاہدہ کرتا ہوں تو میں چینی معیشت کی مدد کررہا ہوں۔ گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن نے موتیرا کو دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم بنایا اور یہ معاہدہ ایک ہندوستانی کمپنی (ایل اینڈ ٹی) کو دیا گیا۔ ملک بھر میں کروڑوں روپے مالیت کا کرکٹ ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے اور چینی کمپنی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ ذاتی طور پر میں بھی ملک میں چینی مصنوعات پر پابندی کے حق میں کھڑا ہوں لیکن اگر وہ چینی پیسہ ہندوستانی کرکٹ کی بھلائی کے لیے ہے تو اس میں کیا نقصان ہے۔ ہم ہندوستان کی ایک طرح سے مدد ہی کررہے ہیں۔


error: Content is protected !!