Wednesday, March 3, 2021
malegaontimes

بھیونڈی شہر کا جائزہ، 110 سے زائد اموات 2200 سے زائد کورونا مریض

بھیونڈی (نامہ نگار) 30 جون : آج بھیونڈی شہر میں کورونا کے 2227 مریض ہوچکے ہیں اور  مرنے والوں کی تعداد 110 سے زائد ہوچکی ہے ۔ یہاں پاورلوم صنعت بیکاری اور بدحالی کا شکار ہے ۔ بیشتر دیگر ریاستوں کے مزدور اپنے اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے بھیونڈی شہر کی پاورلوم صنعت میں مزدوروں کی قلت پائی جارہی ہے ۔ وہیں کاروباری صورتحال ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے صرف 20 فیصد کارخانے جاری ہیں ۔

 بھیونڈی کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے کورونا کو لیکر کوئی خاص کوشش نہیں کی جارہی ہے ۔ بارش ہونے کی وجہ سے سڑکوں کا برا حال ہے جابجا پانی جمع ہونے سے مچھروں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، وہیں سیاسی لیڈران آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے پر سبقت لیجانے میں پریشان ہیں ۔ ماضی کے کمشنر کوئی کام نہیں کرسکے نئے کمشنر پنکج آشیا سے بھیونڈی شہریان کو امیدیں ہیں مگر وہ ابھی چند روز ہی ہوا وہ بھیونڈی گئے ہیں ۔

وہیں عوام بے احتیاطی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔یہاں 20 فیصد عوام ہی ماسک لگا رہی ہے ، سوشل ڈسٹنسنگ کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جارہا ہے ، بڑے اسپتال بند ہیں جسکی وجہ سے مریضوں کو تکالیف کا سامنا ہے ، چھوٹی ڈسپنسری جاری ہے مگر بھیونڈی میں چھوڑے دواخانوں کی تعداد کم ہے لہذا مالیگاوں کے ڈاکٹرس یہاں آکر شہر کے مختلف مراکز سے اپنی طبی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ مالیگاوں شہر کے ڈاکٹروں کی بروقت رہنمائی سے وہاں کے ڈاکٹروں کو کافی طبی مدد میسر ہورہی ہے ۔

 بھیونڈی شہر کے اندرا گاندھی اسپتال ، آئی جی ایم اسپتال ، کوسوال ہال ، رئیسہ ہائی اسکول، اور چاچا نہرو ہائی اسکول میں قرنطینہ میں رکھے گئےجہاں  مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے ۔ ان پانچوں مقامات پر سو سو بیڈ کے لئے جگہ مختص کی گئی ہے۔  جبکہ مریضوں کے افراد خانہ کو رنجولی علاقے میں کورنٹائین کیا گیا ہے ۔ شہر کے اورینج زون میں آنے والے اسپتال کو نان کووڈ سرکاری اسپتال بنایا گیا ہے ۔

وہیں بھیونڈی کارپوریشن نے یہاں کے پانچ اسپتالوں کو کرایہ پر لیا ہے ۔ جن میں وید اسپتال ، ورالادیوی اسپتال ، المعینی اسپتال اور ایس ایس اسپتال شامل ہیں ۔ بتادیں کہ بھیونڈی شہر کارپوریشن کی جانب سے 15 اروگیہ کیندر بنائے گئے ہیں جس میں سرکاری محلہ کلینک جاری ہیں ۔

بھیونڈی میں اب تک 700 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں ۔ 291 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ 940 افراد کا علاج و معالجہ جاری ہے ۔ شہر کے بیشتر علاقوں کو ریڈ زون بنایا گیا ہے مگر رکشا ، کار ،موٹر سائیکل سمیت تمام سواریاں جاری ہیں ، بھیونڈی میں ڈبل سیٹ موٹر سائیکل چلانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے ۔ ماسک اور دیگر مسائل کو لیکر پولس وہاں ڈنڈے بھی برسا رہی ہے ۔ 5 بجے کے بعد دکانوں کو بند کروادیا جارہا ہے ۔ پیٹرول پمپ ہر خاص و عام کے لئے جاری ہے ۔

معلوم ہو کہ بھیونڈی شہر میں پہلے سے ہی طبی وسائل کا فقدان تھا ، یہاں طبی مسائل ہمیشہ تنقید کا باعث رہے ہیں ۔ ایسے میں کورونا کے زیادہ مریض بڑھ جانے سے وہاں طبی مسائل مزید بڑھ گئے ہیں ۔ بھیونڈی شہر کے سرکردہ افراد کو اب آنے والے وقت کے لئے قبل از وقت تیاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ رمضان مہینے تک یہاں ریلیف ، امداد کا سلسلہ جاری رہا ، مگر عید الفطر کے بعد سے ریلیف کا سلسلہ بہت مختصر ہوگیا ، ایسے میں غریب مزدوروں کا بیکار حال ہے۔ مزدوروں کے رشتہ دار یہاں نہیں ہونے اور کارخانے بند ہونے کی وجہ سے ان مزدوروں کو بہت معاشی تنگی کا سامنا ہے ۔ اتر پردیش ، بہار اور دیگر ریاستوں سے بھیونڈی آئے ہوئے پاورلوم مزدور تقریباً 90 فیصد اپنے مقامات پر واپس لوٹ چکے ہیں ، جسکی وجہ سے بھیونڈی شہر اب خالی خالی لگ رہا ہے۔

یہاں کے بازاروں میں بھی پیسوں کی تنگی کو لیکر کوئی بھی رونق نہیں ہے ۔ صرف ضرورت کی اشیاء کی دکانیں جاری ہیں۔ بھیونڈی میں کورونا مریضوں کے گراف کو دیکھتے ہوئے یہاں کے رہائشی بھی اپنے افراد خانہ کے ساتھ آبائی وطن پہنچ کر خود کو محفوظ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہاں کے ساکنین کے دھیرے دھیرے منتقل ہونے سے بھیونڈی شہر تقریبا 30 فیصد خالی ہوچکا ہے ۔


error: Content is protected !!