Saturday, February 27, 2021
malegaontimes

پارلیمنٹ بجٹ اجلاس: صدر جمہوریہ کے خطاب کا 18 سیاسی پارٹیوں نے بائیکاٹ کا اعلان کیا

مودی حکومت کے تین متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے اپوزیشن کے مطالبہ کے درمیان پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا کل بروز جمعہ سے آغاز ہوگا۔ یہ سیشن دو مرحلوں میں منعقد ہوگا۔ صدر جمہوریہ رامناتھ کووند پارلیمنٹ کے دونوں مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ پارلیمنٹ کا پہلا سیشن 29 جنوری سے شروع ہوگا اور 15 فروری کو ختم ہوگا جب کہ دوسرا سیشن 8 مارچ سے 8 اپریل تک چلے گا۔ مرکزی بجٹ 2021ء یکم فروری کو پیش کیا جائے گا۔

گزشتہ کی مرتبہ اس سیشن میں بھی کووڈ۔19 پروٹوکول پر عمل کیا جائے گا۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے اجلاس پانچ گھنٹوں کے ہوں گے۔ راجیہ سبھا کا اجلاس صبح ہوگا اور پارلیمنٹ کا اجلاس شام میں منعقد کیا جائے گا۔ کورونا وباء کے باعث سرمائی سیشن منعقد نہیں ہوسکا تھا۔ اس سیشن میں بھی وقفۂ سوالات ہوں گے۔ کسان تحریک کے سلسلے میں چل رہے الزام در الزام کے درمیان کانگریس سمیت اہم اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے جمعرات کو یہاں صحافیوں کو بتایاکہ 18سیاسی پارٹیوں نے کل صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا بیان کاری کیا ہے۔ اس کس اہم سبب گزشتہ سیشن میں اپوزیشن کی غیر موجودگی میں زراعت سے متعلق تین قوانین کو حکومت نے طاقت کے استعمال سے پاس کرانا ہے۔ کل صدر رام ناتھ کووند کے خطاب کے ساتھ ہی بجٹ اجلاس شروع ہورہا ہے۔

اپوزیشن پارٹیوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو من مانے طریقے سے نافذ کیا ہے جس سے ملک کی 60 فیصد آبادی پر روزی روٹی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس سے کروڑوں کسان اور کھیت مزدور براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ دلی کی سرحدوں پر کسان گزشتہ 64 رن سے دھرنا مظاہرہ کررہے ہیں اور 155سے ز یادہ کسان اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں۔

بیان میں اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر کسانوں کے مطالبات پر توجہ نہ دینے اور ان کی تحریک کے بارے میں گمراہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ کسانوں کو لاٹھی، پانی کی بوچھاروں اور آنسو گیس کے گولے سے جواب دے رہے ہیں۔ وزیراعظم اور حکومت پر مغرور ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں نے کہا کہ وہ اڑیل اور غیر جمہوری رویہ اختیار کررہی ہیں، اس لئے حکومت کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں اجتماعی طور پر کسانوں کے تئیں اتحاد ظاہر کرتی ہیں اور تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

error: Content is protected !!