Thursday, February 25, 2021
malegaontimes

مالیگاؤں: کل ہوئے چالیس گاؤں پھاٹے پر حادثے کا سچ کیا ہے؟ جانئے پوری تفصیل

کل شام 4 بجے کے درمیان چالیسگاؤں پھاٹے پر پھر ایک دلخراش سڑک حادثہ پیش آیا جس میں کالے رنگ کی پلسر موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص اور ایک خاتون آئسر گاڑی کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے ، جیسے ہی یہ حادثہ پیش آیا شہر بھر میں خبر پھیل گئی کے چالیسگاؤں پھاٹے پر ہوئے ایکسیڈنٹ میں میاں بیوی کی دردناک موت کے ساتھ موٹر سائیکل کی پیٹرول ٹنکی پر بیٹھا معصوم بچہ اڑ کر کنٹینر کے ٹائر میں آگیا اور آئسر گاڑی ڈرائیور نے اس بچے کو ایک گھنٹے تک بونٹ میں ہوتے ہوئے کنٹینر کو بھگایا۔

Ayesha-ladies

حادثے کی مکمّل تفصیلات کے لئے جب نمائندہ جمال پترکار شیخ نے تعلقہ پولیس اسٹیشن کے اسسٹنٹ سب انسپکڑ اور اس حادثے کے تحقیقاتی افسر اے ایس آئے گجر سے رابطہ کیا تب انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کے اس حادثے میں جو لڑکا ہلاک ہوا ہے اسکی ابھی تک شادی ہی نہیں ہوئی ہے اور اسکی شناخت پنکج مرلی دھر پاٹل عمر 30 سال ساکن پپمری تعلقہ چلیسگاؤں کے طور پر ہوئی ہے وہیں اسکے ساتھ جو خاتون کی موت ہوئی ہے وہ کون ہے ۔۔۔؟ کہاں کی ہے ۔۔؟ اس لڑکے سے اسکا کیا تعلق ہے ۔۔؟ اسکا خلاصہ نہیں ہو سکا ہے۔ہم ابھی اس لڑکی کی پہچان کیلئے تفتیش کررہے ہیں اور پنکج کے گھر والوں سے رابطہ ہو چکا ہے وہ بھی پولیس اسٹیشن آرہے ہیں،

رہی بات بچے کی تو انکے ساتھ کوئی بچہ تھا ہی نہیں ، موٹر سائیکل پر یہی دونوں تھے ، معلوم ہوکہ آئسر گاڑی کے ڈرائیورکے ساتھ گاڑی کی کیبن میں اسکا بچہ بیٹھا تھا جو محفوظ ہی اور اسے اہل خانہ کے سپرد کردیا گیا ہے ، آئسر گاڑی کے ڈرائیور نے چلیسگاؤں پھاٹے کے تھوڑا آگے واقع شملہ ان ہوٹل کے پاس جاکر گاڑی روک دی تھی جہاں سے فون آنے کے بعد پولیس نے اسے اسی وقت وہاں جاکر حراست میں لے لیا تھا وہ فرار نہیں ہوا تھا ، ملزم ڈرائیور کا نام درونا دتّو گیر گوساوی عمر 32 سال ساکن دھولیہ ہے جسے گرفتار کر موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

اس معاملے کی دیگر تحقیقات اے ایس آئے گجّر کررہے ہیں ،شہر بھر میں اس حادثے کو لیکر طرح طرح کی افواہ کا بازار گرم ہے ، شہریان افواہوں پر دھیان نہ دیں وہیں شہر میں کاروبار بند ہے چھٹیوں کے چلتے نوجوانوں کا گروپ سیر و تفریح کے لئے ہائے وے پر آباد ہوٹلوں کا رخ کرتا ہے ایسے نوجوانوں کو ان حادثات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہائے وے پر جانے سے احتیاط برتنا ضروری ہے اگر اب بھی سمجھداری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو اس کا خمیازہ ہمیں اور ہمارے پیچھے موجود بوڑھے والدین اور اہل خانہ کو ہی بھگتنا پڑیگا ۔

mt ads

error: Content is protected !!