Wednesday, March 3, 2021
malegaontimes

چینی ہیکروں کا ہندوستان پر سائبر حملہ

وادی گالان میں بھارت اور چین کے مابین جاری تنازعہ کے بعد چین نے اب ہندوستانی سائبر اسپیس پر حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ شبہ ہے کہ چینی انفارمیشن وار فیئر سیل اور چینی فوج ملک میں اس طرح کے سائبر حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے ہے۔

پچھلے چار سے پانچ دنوں میں ملک میں انفارمیشن ، بینکنگ اور انفراسٹرکچر سیکٹر پر پچھلے ہزاروں حملے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر سائبر ڈیپارٹمنٹ نے منگل کے روز کہا ہے کہ مکمل تجزیہ اور چھان بین کے بعد پتہ چلا ہے کہ یہ تمام حملوں کا آغاز چین سے ہوا تھا اور انہوں نے کچھ انتہائی اہم علاقوں کو نشانہ بنایا تھا۔

مہاراشٹر کے سائبر انٹیلی جنس سیل کے اسپیشل انسپکٹر جنرل پولیس یشی یادو نے کہا کہ “ہم نے مہاراشٹر سائبر ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ چار پانچ دن سے ہندوستانی سائبر اسپیس میں ہونے والے حملوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ اہم سیکٹرز پر یہ حملے چین کے ہی تھے۔ان شعبوں میں معلومات، انفراسٹرکچر اور بینک کی معلومات شامل ہیں۔ کم از کم 40,300 پرابس یا سائبر حملے ہوچکے ہیں جس پر ہم نے معلومات اکٹھی کی ہیں۔ “

یادو نے کہا کہ “یہ سائبر حملے یا ہیکنگ کی کوششیں چین کے علاقے چینگڈو سے ہورہی ہیں۔ چینگڈو جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کا دار الحکومت ہے۔ انہیں تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر ہندوستانی سائبر اسپیس پر ان حملوں کی وجہ سے سرکاری شعبے پر خطرہ ہے۔” مہاراشٹر سائبر ڈپارٹمنٹ نے تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سائبر سیکیوریٹی کے حوالے سے خصوصی چوکسی اختیار کریں۔ محکمہ نے لوگوں کو سائبر سیکیوریٹی ماہر کے ساتھ سائبر سیکیوریٹی آڈٹ کروانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ چینی سائیک اسپیس کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان چینی ہیکروں کو چینی فوج کی حمایت حاصل ہے۔

حال ہی میں بھارتی ایجنسی CERT-IN (کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم انڈیا) نے بھی ایڈوائزی جاری کی اور ملک کے عوام کو ممکنہ سائبر حملوں سے خبردار کیا ہے۔ اس مشورے میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی سائبر اسپیس پر یہ حملے ‘فشنگ میل’ اور ‘ڈینائل سروس اٹیک ‘ کے ذریعے کیے جاسکتے ہیں۔

Ad:


free-home-delivery


error: Content is protected !!