Thursday, February 25, 2021
malegaontimes

ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او سے امریکہ کے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا

18 مئی کو عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کو لکھے گئے ایک خط میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ وبا کے ردعمل میں آپ کی تنظیم کی جانب سے دہرائی جانے والی غلطیوں کا بھاری ازالہ پوری دنیا کو ادا کرنا پڑا ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ اب صرف اسی صورت میں آگے بڑھا جا سکتا ہے اگر عالمی ادارہ صحت اس بات کا واضح اظہار کرے کہ وہ چین کے دباؤ سے مکمل طور پر آزاد ہے۔

آج وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’چین کا عالمی ادارہ صحت پر مکمل کنٹرول ہے‘ اور یہ سب اس کے باوجود ہے کہ ادارے کو ملنے والی امداد کا ایک حصہ امریکہ دیتا ہے۔

یاد رہے کہ چین پہلے ہی امریکہ کو اپنی (امریکی) سرزمین پر وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے چکا ہے۔ چین نے کہا تھا کہ امریکہ میں وبا پھیلنے کے ذمہ دار وہ سیاست دان ہیں جو امریکی عوام سے ’جھوٹ‘ بولتے ہیں۔

صدر ٹرمپ: ’ہم عالمی ادارہ صحت سے تعلق ختم کر رہے ہیں‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم آج سے عالمی ادارہ صحت سے تعلق ختم کر رہے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں خطاب فی الوقت جاری ہے جہاں وہ ان تمام امریکی اقدامات کی بابت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آگاہ کر رہیں جن کا مقصد چین کو سزا دینا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف عالمی ادارہ صحت سے تعلقات ختم کر رہے ہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے ادارے کے لیے مختص فنڈز کا رخ بھی صحت سے متعلق دیگر عالمی خیراتی اداروں کی جانب موڑ دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا ’چینی حکومت کے بدنیتی پر مبنی اقدامات کی وجہ سے دنیا پریشانی کا شکار ہے۔ چین نے ایک ایسی بیماری کو بڑھنے دیا جس کی قیمت ایک لاکھ سے زائد امریکیوں نے اپنی جانوں کی شکل میں دی ہے۔‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین نے عالمی ادارہ صحت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس وبا کے بارے میں دنیا کو گمراہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ اس وبا کی وجہ سے بے تحاشہ جانی نقصان ہوا ہے جبکہ پوری دنیا کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔


error: Content is protected !!