Friday, March 5, 2021
malegaontimes

نماز عید الفطر کے تعلق سے دار العلوم دیوبند کا خط

حضرات مفتیان کرام دار الافتاء دار العلوم دیوبند

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

            ملک میں جاری لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کے پیش نظر دار الافتاء کی طرف سے نماز جمعہ سے متعلق ہدایات حاصل کی گئی تھیں، اب جب کہ رمضان المبارک کا مہینہ قریب الختم ہے اور ابھی لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں کوئی صورت حال واضح نہیں ہے، اس لیے نماز عید الفطر کے سلسلہ میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اگر لاک ڈاؤن کا سلسلہ اسی طرح برقرار رہا تو نماز عید الفطر کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہوگا۔ رہنمائی فرمائی جائے۔

والسلام

مہتمم دا رالعلوم دیوبند

            الجواب وباللہ العصمۃ والتوفیق، حامداً ومصلیاً ومسلما  :   عید ین کی نماز حناف کے نزدیک اصح اور مفتی بہ قول کے مطابق واجب ہے اور اس کے لیے وہی شرائط ہیں، جو جمعہ کے لیے ہیں؛ البتہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور وہ نماز سے پہلے ہوتا ہے اور عیدین میں خطبہ سنت ہے اور وہ نماز کے بعد ہوتا ہے۔

            لہٰذا اگر عید الفطر تک لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور مساجد وغیرہ میں پانچ سے زائد لوگوں کو نماز کی اجازت نہیں ہوتی تو  6  شعبان سنہ 1441 ھ (مطابق : یکم اپریل 2020 ء) کے فتوے (681 /ن ، 106 /تتمہ / ن) میں جن شرائط و تفصیلات کے ساتھ مساجد اور گھروں کی بیٹھک یا باہری کمروں میں نماز عید بھی ادا کی جائے۔ اور جن لوگوں کے لیے نماز معید کی کوئی صورت بن سکے، عذر و مجبوری کی وجہ سے اُن سے نماز عید معاف ہوگی؛ لہٰذا اُنہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں؛ البتہ یہ حضرات اگر اپنے اپنے گھروں میں انفرادی طور پر 2 یا 4 رکعت چاشت کی نماز پڑھ لیں تو بہتر ہے، کیوں کہ جنہیں عید کی نماز نہ مل سکے، اُن کے لیے فقہانے 2 یا 4 رکعت چاشت کی مستحب قرار دی ہیں۔

فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم

eid ul fitr 2020

eid ul fitr 2020

error: Content is protected !!