Thursday, February 25, 2021
malegaontimes

کورونا کے خلاف جنگ میں فرانس کی پہلی جیت : بار، کیفے، اسکولوں کے ساتھ بارڈر بھی کھول دیے گئے

کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کے سامنے ایسا چیلنج پیش کیا ہے جس پر قابو پانے میں کوئی ملک کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ معاملات ایسے ہوگئے ہیں کہ کئی مہینوں سے جاری لاک ڈاؤن نے معاش کا بحران پیدا کردیا ہے۔ لہٰذا اس جان لیوا وائرس کے خطرے سے زندگی کو دوبارہ کھولا جارہا ہے۔ یورپ کے سب سے زیادہ کورونا سے متاثرہ ممالک میں شامل فرانس نے بھی اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ صدر ایمانوئل میکرون نے بارڈر سے لے کر ریسٹورنٹ ، کیفے، اسکول وغیرہ کھولنے کا حکم جاری کیا ہے۔

فرانس میں یہ فیصلے ایسی صورتحال میں کیے گئے ہیں جب کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ لاگ بھگ تین ماہ سے جاری لاک ڈاؤن پر پابندی اب ختم کردی گئی ہے۔ فرانس میں کورونا کا پہلا کیس جنوری کے آخری ہفتے میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد مارچ کی آمد کے ساتھ اعداد و شمار میں بہت زیادہ اضافہ ہونے لگا ۔ 31 مارچ کو فرانس میں سب سے زیادہ 7578 کیس درج ہوئے۔ فرانس میں کورونا مریضوں کی تعداد میں آخری سب سے زیادہ اضافہ 27 مئی کو دیکھا گیا۔ لیکن جون میں حالات بہت بہتر ہیں۔ ورلڈ میٹر کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں اوسطاً 700 سے کم کورونا کیسز ہیں اور روزانہ اموات کی اوسط بھی کم ہوکر 20 کے قریب رہ گئی ہے۔ جب کہ ایک وقت تھا کہ فرانس میں روزانہ ایک ہزار یا اس سے زیادہ اموات ریکارڈ کی جارہی تھیں۔ فی الحال 16 جون تک کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں کورونا کے کل مریض 1,94,305 ہیں اور 29,439 افراد لقمہ اجل ہوچکے ہیں۔ فرانس میں اب ایکٹیو کیسز کی تعداد 55 ہزار پر آگئی ہے۔


error: Content is protected !!