Friday, February 26, 2021
malegaontimes

انڈونیشیا: ایک عیسائی طالبہ کی وجہ سے پورے ملک کی طالبات پر اسکارف پہننے کی پابندی

انڈونیشیا ایک عیسائی طالبہ کو زبردستی سر ڈھانپنے کا کیس سامنے آنے کے بعد اسکولوں میں سکارف پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے غیرملکی میڈیا کے مطابق آچے صوبے کے علاوہ پورے ملک میں اسکولوں کی طالبات کے اسکارف پہننے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ اگر وزیر تعلیم ندیم مکرم کی جانب سے جاری حکم پر عمل نہیں کیا گیا تو ان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ سالوں سے ملک کے قدامت پرست علاقوں میں غیر مسلم لڑکیوں کو حجاب پہننے پر مجبور کیا جارہا تھا۔چند روز قبل وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ مذہبی لباس انسان کی اپنی چوائس ہے، اسکول اس کو لازمی نہیں بنا سکتا، جو اسکول ان قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے، حکومت کی جانب سے ان کی فنڈنگ میں کمی کردی جائے گی۔



انڈونیشیا میں اسکارف پہننے کا معاملہ اس وقت خبروں میں آیا جب مغربی سماترا کے پڈانگ شہر میں ایک عیسائی طالبہ کو اسکارف پہننے پر مجبور کیا گیا۔طالبہ نے اسکارف پہننے سے انکار کیا، ان کے والدین نے بعد میں اسکول کے ایک عہدیدار کے ساتھ ملاقات کے وقت ایک خفیہ ویڈیو بنائی، جس میں وہ اس بات پر اصرار کررہے تھے کہ مذہب سے قطع نظر اسکول کے قواعد وضوابط کے مطابق تمام لڑکیوں کو حجاب پہننا پڑتا ہے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اسکول نے واقعے پر معذرت کی تھی۔

انڈونیشیا کے مذہبی امور کے وزیر نے کیس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ابھی صرف شروعات ہے، مذہب کو کشیدگی کی وجہ نہیں بننا چاہئے یا مختلف مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ناانصافی کرنے کی وجہ نہیں ہونا چاہئے۔اسکارف سے متعلق نئے قواعد و ضوابط آچے صوبے میں لاگو نہیں ہوں گے جو ایک دیرینہ معاہدے کے تحت مذہبی قانون کی پیروی کرتا ہے

mt ads

error: Content is protected !!