Thursday, February 25, 2021
malegaontimes

اسلام آباد ہائی کورٹ پر وکیلوں نے ہی حملہ کر دیا، چیف جسٹس کے آفس کا بھی گھیراؤ کیا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وکلا کے ایک گروہ کی طرف سے پیر کے روز ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت اور ان کے چیمبر کے گھیراؤ کے واقعے کے بعد منگل کو اس عمارت کے چاروں اطراف فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہاں پولیس کی بھاری نفری گذشتہ روز سے ہی تعینات ہے۔بعض وکلا تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے جبکہ کچھ نے ضلعی انتظامیہ اور عدالتی حکام سے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی شخص کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں ہے اور صرف انھی افراد کو ہائی کورٹ کے احاطے میں جانے دیا جا رہا ہے جن کو رجسٹرار آفس کی جانب سے خصوصی اجازت دی جاتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں کوئی وکیل موجود نہیں ہے مگر چیف جسٹس اطہر من اللہ سمیت ہائی کورٹ کے تمام ججز اپنے اپنے چیمبر میں موجود ہیں۔



اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے اس واقعہ کے بعد منگل کے روز ہائی کورٹ سمیت ضلعی عدالتوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کی وجہ سے منگل کو اسلام آباد کی ضلعی عدالتیں بھی بند ہیں۔عدالت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صورتحال کے جائزے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کے کام جاری رکھنے سے متعلق فیصلہ منگل کو ہی کیا جائے گا۔ہائی کورٹ حکام کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنی عدالت اور چیمبر پر وکلا کے حملے کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد سے ملاقات کی تھی اور اُنھیں اس واقعے اور وکلا کی طرف سے ان کے ساتھ کی گئی مبینہ ‘بدتمیزی’ کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔

اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع ضلع کچہری میں محتلف مقامات پر تازہ نوٹس چسپاں کر دیے ہیں جس میں ان وکلا کو جن کے چیمبرز فٹ پاتھ اور سرکاری اراضی پر تعمیر کیے گئے ہیں، کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان چیمبرز کو خود ہی گرا دیں ورنہ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ ان چیمبرز کو مسمار کر دے گی اور نقصان کی تمام تر ذمہ داری وکلا پر ہو گی۔

mt ads

error: Content is protected !!