Saturday, February 27, 2021
malegaontimes

کارخانے شروع کرنے کی میٹنگ بے نتیجہ رہی

سرکاری رہائش گاہ پر ضلع کلکٹر نے پاورلوم صنعت سے منسلک بنکروں، مزدوروں، گرے کلاتھ، یارن مرچنٹ کی مشترکہ میٹنگ لی

شہر میں دیڑھ ماہ تک کے تیار کپڑوں کا اسٹاک موجود ہے، صنعت کا چکرداں دواں ہونے کے لیے لین دین کا مرحلہ نا گریز.

مالیگاؤں (نامہ نگار) ضلع کلکٹر سورج مانڈھرے کے ذریعے شہر کے پاورلوم کارخانوں کو جاری کرنے کے لیے گزشتہ شام سرکاری رہائش گاہ پر طلبیدہ میٹنگ بے نتیجہ رہی۔ البتہ میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ 17 مئی تک لاک ڈاؤن کے تعلق سے حکومت کا واضح موقف آنے کے بعد ایک بار پھر غور و خوض کرکے فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔ اس میٹنگ میں پاورلوم بنکروں کے عالوہ گرے کلاتھ ایسوسی ایشن، یارن مرچنٹ ، پاورلوم مزدور اور حکومتی آفیسران نیز عوامی نمائندے موجود تھے۔ اس ضمن میں سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ میٹنگ کے حوالے سے جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اس میں الگ الگ شعبے کے افراد نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ یارن مرچنٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاورلوم بنکروں پر فروری سے سوت کا پیسہ بقایا ہے اس کی ادائیگی کے بعد ہی آگے یارن کی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔ بنکروں کی جانب سے یہ موقف پیش کیا گیا کہ مالیگاؤں میں اس وقت تقریباً دیڑھ ماہ تک کاروبار جاری رہنے والا کپڑوں کا اسٹاک موجود ہے یہ اسٹاک جب تک پالی بالوترہ اور دیگر پروسیس ہاؤس نہیں روانہ کیا جائے گا، لین دین شروع ہونا ممکن نہیں۔ کپڑوں کی روانگی اور پے مینٹ کی حصولیابی کے بعد ہی رولنگ گھومے گی، صنعت کا چکا رواں دواں ہونے میں آسانی ہوگی۔ اس وقت بنکروں کے پاس نقدی کی قلت ہے ، البتہ دیگر مال اور اشیاء موجود ہیں۔ اتنا ہی نہیں بنکروں نے گرے کلاتھ مرچنٹ اور کپڑا بیوپاریوں کو جو تیار کپڑا فروخت کیا ہے ۔

مارچ سے اس کا پے مینٹ نہیں ملا ہے جو چیک دیا گیا ہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ بینکوں سے کیش نہیں ہورہا ہے۔ ضلع کلکٹر سورج مانڈھرے اور ریاستی وزیر برائے زراعت دادا بھسے نے اس میٹنگ میں پاورلوم مزدوروں کا موقف بھی پیش کیا گرچہ اس میٹنگ میں پاورلوم مزدوروں کی نمائندگی کرنے والے افراد بھی موجود تھے۔ حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بہت سارے پاورلوم بنکر لاک ڈاؤن کے ان ایام میں مزدوروں کو کھوٹی دینے سے انکار کررہے ہیں۔ جس کی شکایت انتظامیہ تک ملی ہے اور 105 شکایات درج بھی ہوئی ہیں۔

error: Content is protected !!