Monday, March 1, 2021
malegaontimes

کرانہ کے سامان دال اور تیل کے دام بڑھیں گے، زرعی سیس کی وجہ سے عوام پر زائد بوجھ

بجٹ کا اثر کرانہ پر پڑے گا کرانہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اوردال اور تیل کی قیمت میں 5 تا 10 فیصد اضافہ درج کیا جائے گا۔مرکز نے جو بجٹ تیارکیا ہے اس میں دالوں اور تیل پر زرعی سیس کے عائد کئے جانے کا فیصلہ کیا لیکن اس فیصلہ کے اثرات پٹرول یا ڈیزل کی طرح نہیں ہیں بلکہ اس کے راست اثرات گرانی پر پڑیں گے اور جاریہ ماہ سے ہی دالوں اور تیل کی قیمتوں کے علاوہ بعض دیگر اشیائے کرانہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔

ریٹیل ڈیلرس نے مرکزی حکومت کے بجٹ میں ریٹیل تاجرین کو کسی قسم کی رعایت فراہم نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکز نے مجموعی اعتبار سے معیشت میں سدھار کی جانب اہم پیشرفت کی ہے لیکن ان حالات میں ریٹیل تاجرین کیلئے بھی کسی منصوبہ کا اعلان کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ جس طرح سے بڑے صنعتی اداروں کو وباء کے سبب لاک ڈاؤن کے دوران نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اسی طرح ریٹیل تاجرین کو بھی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دالوں اور تیل پر عائد کردہ زرعی سیس کے سبب دالوں کی قیمت میں 3 تا 5 روپئے فی کلو اور 300 تا 500 روپئے فی کوئنٹل اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔تجارتی برادری کا کہناہے کہ تیل کی قیمتو ں میں کئی ماہ سے اچھال ریکارڈ کیا جا رہاہے اور اب حکومت کی جانب سے خوردنی تیل پر بھی زرعی سیس عائد کرنے کے فیصلہ کے بعد تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے۔

کرانہ مرچنٹ اسوسیشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ مرکزی بجٹ میں اشیائے ضروریہ پر سیس عائد کرنے کے فیصلہ کا اثر عام شہریوں پر ہوگا اور دال اور تیل پر سیس وصول کرنے کا فیصلہ قیمتوں میں اضافہ کا موجب بنے گا لیکن موجودہ حالات میں اس طرح کے فیصلہ کو کرانہ مرچنٹ اسوسیشن نے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے کئی توقعات وابستہ تھیں لیکن اس میں کرانہ والوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔

error: Content is protected !!