Thursday, March 4, 2021
malegaontimes

سو سے بھی زائد کسان لاپتہ،لال قلعہ تشدد کے بعد سے غائب اب تک نہیں ملے

پنجاب ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نامی ایک این جی او کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ کی کسان پریڈ میں شرکت کے لئے پنجاب سے آنے والے سو سے زائد کسان لاپتہ ہیں۔ لال قلعہ پر پیش آنے والے پرتشدد واقعہ کے بعد سے 100 سے زائد مظاہرین لاپتہ ہیں۔ معلومات کے مطابق اب تک پولیس کے ذریعہ صرف 18 کسانوں کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے لیکن باقی کسانوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ کسانوں کے اس طرح سے لاپتہ ہو جانے کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی لاحق ہے۔

تصدیق شدہ 18 کسانوں میں سے 7 ضلع بھٹنڈہ کے تلونڈی صاحبو سب ڈویڑن کے بنگی نہال سنگھ گاؤں کے رہائشی ہیں۔ان کسانوں کو کسان ریلی کے دوران لال قلعہ پر تشدد کے الزام میں دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ یہ کسان 23 جنوری کو دو ٹریکٹروں پر بیٹھ کر دہلی روانہ ہوئے تھے، یہاں انہیں ٹریکٹر ریلی میں شریک ہونا تھا۔ ان سبھی کو 26 جنوری کو تشدد کے واقعات کے بعد پشچم وہار پولیس اسٹیشن میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

دہلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا نے بتایا کہ ”موگا کے 11 مظاہرین کو نانگلوئی پولیس نے گرفتار کیا تھا، جنہیں اب تہاڑ جیل میں بند کر دیا گیا ہے۔ موگا کے ہی گاؤں تاتاری والا کے 12 افراد 26 جنوری کو ہونے والے واقعے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں علی پور اور نریلا کے آس پاس سے ہوئی ہیں۔” منجندر سنگھ سرسا نے مزید بتایا کہ ایک زخمی کسان سینٹ اسٹیفن دواخانہ میں زیر علاج ہے۔کسانوں نے آج ایک روزہ بھوک ہڑتال بھی منائی ۔

error: Content is protected !!