Monday, March 1, 2021
malegaontimes

بریلی پولس نے قبول کیا لو جہاد کا الزام جھوٹا، تین مسلم نوجوانوں پر مقدمہ خارج

اترپردیش کی بریلی پولیس نے قبول کیا ہے کہ تین مسلم نوجوانوں پر24 سالہ خاتون کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے معاملے میں جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔تین مسلمان نوجوانوں کے خلاف یکم جنوری کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس روہت سنگھ سجوان نے اتوار کے روز کہا کہ تفتیش کے دوران ، لڑکی پر مذہب تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کا الزام درست نہیں پایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس خاتون نے یکم جنوری کو اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ بریلی سے فرید پور آرہے ابرار اس کے بھائی میسور اور ارشاد نے اسکو اسکوٹی سے کھینچنے اور اسکو اسلام قبول کرواکر نکاح کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔ یہ واقعہ یکم دسمبر 2020 کا بتایا گیا ہے۔ایس ایس پی کے مطابق ، واقعہ ہوجانے پر فورا نہیں بلکہ ایک ماہ بعد یہ شکایت درج کی گئی تھی ، لہذا پولیس کو شک ہو گیااور تفتیش میں لگائے گئے الزامات کے بہت سے حقائق ملے۔

انہوں نے کہا کہ یکم دسمبر کو ہونے والے مبینہ واقعے کے دن کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔انہوں نے کہا ،”تاہم پولیس کو پتہ چل گیا ہے کہ ملزمان اس دن موقع پر موجود نہیں تھے۔ پولیس کے جمع کردہ شواہد کے مطابق،خاتون اور اس کے لواحقین نے تینوں نوجوانوں پر جو الزامات لگائے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور قانون کی دفعات کے مطابق مقدمات خارج کردیئے جائیں گے۔ ‘

سجان نے بتایا ، ‘9 ستمبر 2020 کو ، خاتون ابرار نامی نوجوان کے ساتھ گھر سے چلی گئی۔ اس کے بعد فرید پور پولیس اسٹیشن میں اغوا کی شکایت درج کی گئی۔ یہ خاتون تقریبا پندرہ دن دہلی کے تغلق آباد میں ابرار کے ساتھ رہی اور پھر گھر لوٹی اور تفتیش نے اس کی عمر 24 سال کی تصدیق کردی۔

پولیس کے مطابق ، لڑکی کے والدین نہیں ہیں اور وہ اپنے ماموں کے ساتھ رہتی ہے۔ اس واقعے کے بعد اس کی شادی 11 دسمبر کو ایونلا کے علاقے میں ہوئی تھی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ کچھ دن قبل ابرار نے اس لڑکی کے سسرالیوں کو دھمکی دی تھی اور اسے جلد فرید پور آنے کو کہا تھا اور اگر وہ ایسا نہیں کریگی تو اس کا خمیازہ بھگتنا تھا۔ اس الزام کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو ابرار کے خلاف کارروائی شروع کردی جائے گی۔

اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے نومبر 2020 میں ایک آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کیا گیا خدشہ ہے کہ اس کا استعمال مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے کیا جائے گا۔اس میں شادی کے لئے دھوکہ دہی ، لالچ یا زبردستی مذہب تبدیلی جیسی مختلف وجوہات کی بناء پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور 50 ہزار تک جرمانہ عائد کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔اترپردیش پہلی ریاست ہے جہاں مبینہ لو جہاد کے خلاف قانون لایا گیا ہے۔

error: Content is protected !!