Friday, March 5, 2021
malegaontimes

سورج نکلتے ہی دوبارہ زندہ ہوجائیں گی، اندھی عقیدت میں تعلیم یافتہ ماں باپ نے کیا دو جوان بیٹیوں کا قتل

جنوبی بھارت کے صوبے آنداھرا پردیش کے ضلعے چتور میں ایک اعلی تعلیم یافتہ جوڑے نے اپنی دو جوان بیٹیوں کواس ‘یقین‘ کے ساتھ مار ڈالا کہ اگلے روز آفتاب طلوع ہوتے ہی وہ زندہ ہوجائیں گی کیوں کہ ‘کل یگ‘ ختم ہورہا ہے اور ‘ست یگ‘ کا آغاز ہونے والا ہے۔ پولیس کے بروقت پہنچ جانے سے خودکشی کرنے کی دونوں کی کوشش بہر حال ناکام ہوگئی۔

مندروں کے شہر تروپتی میں رہنے والے وی پرشوتم نائیڈو نے کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور ایک سرکاری کالج میں پرنسپل ہیں جبکہ ان کی بیوی پدمجا ریاضی میں پوسٹ گریجویٹ کر کے بھارت کے معروف تعلیمی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی سے گولڈ میڈل بھی حاصل کر چُکی ہیں اور وہ ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلاتی ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی، کی عمر27 سال اور نام الیکھیا تھا جو پوسٹ گریجویشن کررہی تھی اورچھوٹی بیٹی 22 سالہ سائی دیویا بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کررہی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پروشوتم اور پدمجا دونوں ہی تواہم پرست ہیں۔ اتوار کی رات انہوں نے چھوٹی بیٹی کو ترشول سے مار ڈالا۔ اس کے بعد بڑی بیٹی کے منہ پر تانبے کا برتن رکھا اوراس پر ہتھوڑے سے وار کرکے اس کو بھی مار دیا۔ پڑوسیوں نے شور سن کر پولیس کو مطلع کیا۔ جب پولیس نے ان دونوں سے بیٹیوں کو قتل کرنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بڑے

اطمینان سے کہا کہ دونوں بیٹیاں سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی زندہ ہوجائیں گی۔ کیونکہ ‘کل یگ‘ ختم ہونے اور ‘ست یگ‘ شروع ہونے والا ہے۔ ان دونوں کے چہروں پر ذراسا بھی تاسف نہیں تھا۔ہندو عقیدے کے مطابق موجودہ دور ‘کل یگ‘ کا ہے جس میں ہر طرف برائی اور بدعنوانی کا دارو دورہ ہے جب کہ ‘ست یگ‘ میں ہر طرف نیکی اور ایمانداری کا بول بالا ہوگا۔

error: Content is protected !!