Saturday, February 27, 2021
malegaontimes

میڈ اِن چائنا کی بجائے میڈ اِن پی آر سی لکھ کر چکمہ دے رہا ہے چین

مشرقی لداخ کی وادی گالان میں پر تشدد جھڑپوں کے بعد ملک میں چینی مصنوعات کا بائیکاٹ ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے۔ ایسی صورتحال میں آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ چین اس “بائیکاٹ لہر” سے بچنے کے لیے کس طرح ہندوستانی صارفین کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔

در حقیقت 2017 میں ڈوکلام تنازعہ کے بعد بھی چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا ۔ اس کے بعد دیوالی جیسے مواقع پر کچھ تنظیموں نے چینی لڑیاں اور بتوں کو نہ خریدنے کی اپیل کی تھی۔ اس کا بھی خاصا اثر پڑا ۔

اس کے بعد چین ان چالوں میں پڑگیا تاکہ زیادہ تر ہندوستانی خریداروں کو پہلی نظر میں یہ معلوم نہ ہوکہ مصنوعات چینی ہے۔ جس ملک میں ایک مصنوعہ تیار کی جاتی وہ پیکیج اور پروڈکٹ پر لکھی جاتی ہے جس طرح ہندوستان میں تیار کردہ کوئی فیکٹری “میڈ اِن انڈیا” لکھے گا اسی طرح چینی مصنوعات کو “میڈ اِن چائنا” لکھا جاتا ہے۔ یعنی یہ معلوم کرنا بہت آسان تھا کہ کون سا سامان ہندوستانی اور کون سا چینی ہے۔ اس آسان شناخت کو ختم کرنے کے لیے چائنا نے اب اپنی مصنوعات پر “میڈ اِن چائنا” لکھنا چھوڑ دیا ہے ۔ اب وہ میڈ ان پی آر سی لکھتا ہے۔ PRC کا مطلب عوامی جمہوریہ چین ہے۔ شاید چین نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ PRC دیکھنے کے بعد ہندوستانی صارفین وہ سامان خرید لیں گے۔ وہ یہ نہیں سمجھ پائیں گے کہ یہ حقیقت میں میڈ اِ ن چائنا ہے۔

نوئیڈا کے سیکٹر 49 میں موبائیل اور الیکٹرانکس آئٹم شاپ چلانے والے مکیش کمار پورے کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ جب کچھ لوگ سامان لینے آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ انہیں چائنا کا سامان نہیں چاہیے۔ لیکن وہ پی آر سی لکھے سامانوں کو خریدنا شروع کردیتے ہیں۔ جب میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ پی آر سی مصنوعہ چینی ہے تو پھر وہ ہندوستانی مصنوع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مکیش نے کہا کہ لوگ نہیں جانتے کہ پی آر سی لکھ کر چین کس طرح کھیل رہا ہے۔ مکیش نے بتایا کہ ابتداء میں اسے بھی لگا کہ یہ مصنوعات کسی اور تیسرے ملک سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ہول سیلر نے اسے یہ معلومات دی۔


error: Content is protected !!