Wednesday, March 3, 2021
malegaontimes

مالیگاؤں 2008 بم بلاسٹ کیس میں گواہ نمبر 154 نے گواہی درج کرائی، جانئے کیا کہا

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ میں گواہ نمبر 154 کی خصوصی این آئی اے عدالت میں گواہی عمل میں آئی جس کے دوران گواہ نے عدالت کو بتایاسال2008 میں پونے پولس نے اسے بطور پنچ گواہ بننے کے لیئے درخواست کی تھی جس کے بعد اس نے ایک لیپ ٹاپ کے قبضے لینے کے پنچ نامہ میں بطور پنچ کردار ادا کیا تھا۔وکیل استغاثہ اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سرکاری گواہ نے خصوصی این آئی اے جج پی آر سٹرے کو بتایا کہ پولس والوں نے ایک خاتون سے ایچ پی کمپنی کا لیپ ٹاپ قبضے میں لیا تھا جسے اس کی موجودگی میں سیل کیا گیاپھر اس نے پولس کی جانب سے تیار کیئے گئے پنچ نامہ پر دستخط کیئے تھے، سرکاری گواہ نے آج عدالت میں لیپ ٹاپ اور پنچ نامہ پر موجود اس کی دستخط کی تصدیق کی۔

واضح رہے کہ استغاثہ کا دعوی ہیکہ متذکرہ لیپ ٹاپ ملزم دیانندپانڈے کا ہے جو مالیگاؤں بم دھماکہ سازش کی میٹنگوں کی روداد اس میں محفوظ رکھتا تھا۔ملزم دیانند پانڈے کے وکیل رنجیت سانگرے کی عدم دستیابی کی وجہ سے عدالت نے ملزم سے جرح کرنے کے لیئے 11 فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔اسی درمیان عدالت نے این آئی اے کو حکم دیا کہ وہ عدالت میں کل کسی دوسرے سرکاری گواہ کو پیش کرے اور اپنی سماعت ملتوی کردی۔دوران کارروائی عدالت میں بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ارشد شیخ، ایڈوکیٹ عادل شیخ(جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی) موجود تھے۔

ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجررمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کے خلاف قائم مقدمہ میں گواہوں کے بیانات کا اندراج کررہی ہے، ابتک 154 گواہوں کی گواہی عمل میں آچکی ہے اور عدالتی کارروائی روز بہ روز کی بنیاد پر جاری ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ممبئی ہائی کورٹ میں کرنل پروہت کی جانب سے اسے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی عرضداشت پر سماعت ہوسکتی ہے جس میں جمعیۃ علماء نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے مداخلت کار کی عرضداشت داخل کی ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ میں بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا بی اے دیسائی (سینئر ایڈوکیٹ)پیش ہونگے۔

error: Content is protected !!