Tuesday, March 2, 2021
malegaontimes

عید کی نماز عید گاہو پر ادا ہوگی یا نہیں؟ لاک ڈاؤن کے تناظر میں خلاصے کا انتظار

مالیگاؤں (نامہ نگار) عالم اسلام کا سب سے مبارک اور متبرک ماہ مایہ فگن ہے۔ نصف سے زیادہ حصہ گزر چکا ہے۔ دو دن بعد سے آخری عشر ے کا آغاز ہوگا۔ ملک بھر میں 17 مئی تک لاک ڈاؤن کا نفاذ ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں اس میں توسیع ہوگی یا کچھ حد تک راحت دی جائے گی؟ اس کی تفصیلات حکومتی سطح پر فراہم کیے جانے کا انتظار ہے البتہ گزشتہ روز ملک کے وزیر اعظم کے ذریعے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے تبادلہ خیال کے بعد اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ ممکن ہے کہ کچھ ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں توسیع کردی جائے، وہیں لاک ڈاؤن میں راحت کے بعد اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ مذہبی اجتماعات اور اجتماعی عبادتوں کی اجازت دی جائے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس بات کا استدلال بھی پیش کررہا ہے کہ حکومت اگر شراب فروختگی کی اجازت دے سکتی ہے تو پھر عبادت گاہوں کے تالے بھی کھلوانے کی اجازت کیوں نہیں دے سکتی؟ بہرحال یہ مرحلہ ہے۔

وہیں آج کی صورتحال میں شہر بھر میں ملت اسلامیہ عید الفطر کی نماز کو لے کر بحث و مباحثہ میں مبتلا ہوتی نظر آرہی ہے۔ بہت سارے افراد کو عید کی نماز عیدگاہوں پر ادا کرنے کی سہولت ملے گی یا نہیں اس کا انتظار ہے۔ ایسے میں مسلمانانِ شہر کو مقامی سطح پر ملی تنظیموں اور علمائے کرام نیز مفتیان کرام کی رہنمائی اور احکامات کا انتظار ہے۔ دریں اثناء شہر بھر کی سبھی عیدگاہوں کے ٹرسٹیان کی جانب سے لاک ڈاؤن  کے تناظر میں فی الحال دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل در آمد کیا جارہا ہے۔ آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن کی اس صورتحال کے بعد ممکن ہے عیدگاہوں کے ٹرسٹیان اپنے اپنے طور پر کوئی فیصلہ کر ملت اسلامیہ کو اس کی آگاہی دیں گے۔ لیکن اس بات کے امکانات کم ہی لگ رہے ہیں کہ عید کی نماز عید گاہوں پر ادا کی جاسکے گی کیونکہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد سماجی فاصلہ رکھنے کی ذمہ داری ہر حال میں قائم رہے گی۔

error: Content is protected !!