Friday, March 5, 2021
malegaontimes

ائمہ و موذّنینِ مساجد کی تنخواہ میں اُن کی ضرورت بھر اضافہ کیا جاے: حافظ محمد غفــــــران اشرفی

حافظ محمد غفــــــران اشرفی نے ایک مضمون بغرض اشاعت ریلیز کیا ہے جس میں انہوں نے موجودہ حالات کے پیش نظر ائمہ و موذّنینِ مساجد کی تنخواہ میں اضافہ کی مانگ کرتے ہوئے مفصّل انداز میں اپنی باتوں کو عوام کے سامنے رکھا ہے. انکے اس مضمون کو ہو بہو عوام کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے.

حافظ محمد غفــــــران اشرفی

(جنرل سکریٹری سنّی جمعیة العوام)

[7020961779 /Malegaon

جو مضامین آنے والے ہیں قارئین سے عرض ہے کہ اُنہیں سنجیدگی سے پڑھیں اور اُن سے متعلق اپنے دوست و احباب میں بیداری لاتے ہوے عملی اقدام اٹھاکر اپنے دامن میں مظلوم پیشوایانِ دین کی دعاوں کا ذخیرہ کریں۔ہر طرف گرانی کا ماحول ہے۔

Ayesha-ladies

اشیاے خورد و نوش سے لے کر ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں روز بروز مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔جس کی وجہ سے ہر کوئی پریشان ہے۔لیکن سب سے زیادہ جو طبقہ پریشان ہے وہ ائمہ اور موذنین کا طبقہ ہے۔جو پریشان حال ہوکر بھی چہرے پر بشاشت و مسکراہٹ لیے لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔ نا اپنی غربت کا رونا اور نا کم تنخواہی کی کسی سے شکایت۔آپ شہر کی مساجد کا سروے کرلیں۔نوّے فیصدی مساجد میں ائمہ اور موذنین کی تنخواہ ہفتہ وار دو ہزار روپیے یا اُس سے بھی کم ہے۔

بعض مساجد ایسی بھی ہیں جہاں لاکھوں روپئے سلّک ہیں۔ مسجد سے متّصل شاپنگ کا کرایہ بھی آتا ہے جمعہ کا چندہ بھی ہورہا ہے۔اُس کے باوجود ائمہ و موذنین کی تنخواہ وہی باپ دادا کے دٙور سے چلی آرہی رسم کے مطابق!! جب کہ ایک پاور لوم مزدور اور چاے کی ہوٹل پر نوکری کرنے والے اُن کی پگار تین یا چار ہزار روپیے ہفتہ ہوتی ہے۔کیا ائمہ اور موذنین کے اخراجات نہیں ہیں؟ اُن کے اہل و عیال نہیں ہیں؟ کیا بیماری اور پریشانیاں اُن کو نہیں آتیں؟کیا وہ اپنے بچّوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلاسکتے؟ پھر ایسے باغیرت اور خوددار لوگ جو اپنی ذات کے لیے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اُن کی آمدنی سے متعلق ہم غور کیوں نہیں کرتے؟

یہی وجہ ہے کہ بہت سے ایسے ائمہ جن کو میں خود جانتا ہوں اُن کا گزر بسر صرف مسجد کی تنخواہ سے نہیں ہوپاتا اور یقینا نہیں ہوپاتا وہ لوگ گھڑی لگاکر یا لوم چٙلاکر یا اور کوئی کام کرکے گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ہماری مساجد کے ذمہ داران جتنی تنخواہ ائمہ اور موذنین کو دے کر اُن پر اپنی دقیانوسی سیٹھائی بٙگھارتے ہیں کیا وہ خود اُتنی ہی رقم میں مکمل ہفتہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کرپائیں گے؟

یقینا کوئی کفایت شعاری سے بھی کرنا چاہے تو مہنگائی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرپاے گا۔اور کیا اُتنی ہی کم تنخواہ میں ذمہ دارانِ مساجد اپنے بیٹوں کو کہیں اِن مناصب پر یا کسی اور نوکری کے لیے راضی ہوں گے؟تو پھر کیا ائمہ اور موذنین آسمان سے نازل شدہ مخلوق ہیں؟یا پھر اُنہوں نے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ کاٹ کر الماری میں رکھ کر اُس پر قفل چڑھا دیا ہے؟وہ اگر اپنی خودداری اور غیرت کی وجہ سے کسی کے سامنے پریشانی بیان نہیں کرتے تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اُن کی تنخواہ سے متعلق غور و فکر کیا ہی نا جاے۔

یہ ذمہ داری مصلّیان مساجد کی ہے کہ وہ جس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اگر اُس مسجد کے امام و موذن کی تنخواہ ضرورت بھر نہیں ہے تو بِلا جِھجھک مساجد کے ذمہ داروں سے بات کرکے ائمہ اور موذنین کی تنخواہ کم از کم تین ہزار روپیے ہفتہ کروائیں۔تاکہ وہ لوگ بھی خوش حالی سے اپنے گھر والوں کی کفالت کرسکیں۔یہاں تو ذمہ داران مساجد کی حالت یہ ہے کہ اگر تنخواہ بڑھانے کی بات گول میز کانفرنس کے ذریعہ سال میں ایک مرتبہ کرتے بھی ہیں تو سو روپیے یا ائمہ و موذنین پر بہت مہربانی اور احسان کرتے ہیں تو دو سو روپیے ایسے بڑھاتے ہیں جیسے اپنی جیب سے نکال کر دے رہے ہوں۔

بہر حال شہر کی مساجد کے ٹرسٹیان،ذمہ داران سے گزارش ہے مساجد کے رنگ و روغن،ٹوٹ پھوٹ کی درستگی مخیّران کے چندے سے ہوتی رہے گی۔لیکن اپنے امام و موذن کی تنخواہ میں اضافہ مسجد کے چندے سے ہی کرنا ہوگی۔حالات کو مدّ نظر رکھتے ہوے اُن کی تنخواہ بڑھائیں۔اگر آپ نہیں بڑھا سکتے تو ذمہ دار کیسے؟

اگر ہم ہنستے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں ہمیں رونا ہی نہیں آتا

mt ads

error: Content is protected !!