Thursday, February 25, 2021
malegaontimes

منور فاروقی کو دیر رات رہائی ملی، سپریم کورٹ کے جج کو کرنا پڑا فون

ہندو دیوی دیوتاؤں کو لے کر مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملہ میں سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد کامیڈین منور فاروقی کو ہفتہ دیر رات یہاں کی سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا ۔ وہ گزشتہ 35 دنوں سے عدالتی حراست کے تحت جیل میں بند تھے ۔ سینٹرل جیل انتظامیہ نے پریاگ راج کی ایک عدالت کے ذریعہ پیشی وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے فاروقی کی رہائی سے ہفتہ دیر شام معذرت ظاہر کی تھی ، لیکن بعد میں جیل کے ایک افسر نے کہا کہ معاملہ میں عدالت عظمی کے جمعہ کو دئے حکم کی کاپی تقریبا 30 گھنٹوں کے بعد جیل انتظامیہ کو ملی ، جس کی بنیاد پر نوجوان اسٹینڈ اپ کامیڈین کو ہفتہ دیر رات رہا کردیا گیا ۔



سپریم کورٹ کے جج نے اندور کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کو فون کرکے ان سے عدالت عظمی کی ویب سائٹ پر آرڈر دیکھنے کی اپیل کی ، جس میں اس نے منور فاروقی کو ضمانت دینے کے ساتھ ہی پروڈکشن وارنٹ پر بھی روک لگا دی تھی ۔اس حکم کے تحت عدالت عظمی نے فاروقی کو اندور میں درج معاملہ میں عبوری ضمانت دے دی تھی ۔ ساتھ ہی ساتھ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں ان کے خلاف پریاگ راج میں درج معاملہ میں وہاں کی ایک نچلی عدالت کے ذریعہ جاری پیشی وارنٹ پر بھی روک لگادی تھی ۔عینی شاہدین کے مطابق منور فاروقی کی رہائی کی اطلاع ملتے ہی ہفتہ دیر رات جیل کیمپس میں میڈیا اہلکار بھی جمع ہوگئے تھے ، لیکن مذہبی طور پر حساس معاملہ میں گرفتار اسٹینڈ اپ کامیڈین کو میڈیا کی نظروں سے بچاتے ہوئے خفیہ طریقہ سے جیل کے احاطہ سے باہر نکالا گیا ۔

اندور میں یکم جنوری کی رات درج کیس میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام کا سامنا کررہے گجرات کے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کو سپریم کورٹ نے جمعہ کو عبوری ضمانت دے دی تھی ۔ منور کے وکیل نے اندور کی ضلع عدالت میں عدالت عظمی کا آرڈر پیش کرکے ضمانت کی کارروائی پوری کی تھی ۔ مقامی عدالت نے 50 ہزار روپے کی ضمانت اور اتنی ہی رقم کے مچلکہ پر فاروقی کو سینٹرل جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا ۔

mt ads

error: Content is protected !!