Saturday, March 6, 2021
malegaontimes

کسان رہنما راکیش ٹکیٹ کے آنسو کام کر گئے، عوام کا جم غفیر امڈ پڑا، تحریک ختم کرنے کی حکومت کی چالیں ناکام

یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران دہلی میں ہوئے تشدد اور غازی پور بارڈر پر شرپسندوں کے ساتھ ہوئی کسانوں کی جھڑپ کے بعد ایسا لگ رہاتھاکہ کسان تحریک اب دم توڑدے گی، غازی پور بارڈر پر ڈٹے کسان کھسکنے لگے تھے-

دہلی اور یوپی کی پولیس کے علاوہ رپیڈ ایکشن فورس کے جوانوں نے غازی پور بارڈر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا، لیکن دیر رات حالات تبدیل ہوگئے-بھارتیہ کسان یونین کے آنسو نے حکومت ہندکی تمام ناپاک امیدوں پر پانی پھیردیا،لوگ اکٹھاہونے لگے، پولیس لوٹ گئی، بجلی – پانی بحال کردیئے گئے- کسان پھر سے جائے حادثات پرجمع ہوگئے-

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے تحریک کی جگہ والے تمام بارڈر پر بجلی، پانی اور بیت الخلا جیسی سہولیات مہیا کرانے کا حکم دیا ہے-اسٹیج پر لیڈروں کی بھیڑ پھر جمع ہوگئی- کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ کے چہرے پر تازگی ہے- پورے جوش کے ساتھ وہ پھر سے اسٹیج پر ترنگا لہرانے لگے ہیں – اسٹیج کے سامنے کا حصہ پھر گلزار ہے-پولیس اور انتظامیہ کی سختی کے بعد کل رات ایک بار تو یہ لگا کہ یہ تحریک یہیں تھم جائے گی- تاہم رات ہوتے ہوتے تحریک نے پھر اپنا رنگ اختیار کرلیا- غازی پور علاقے میں کسانوں کی بھیڑ جمع ہوچکی ہے-غازی پور میں بنے اسٹیج کے سامنے سامعین کی بھر پور بھیڑ ہے- بالترتیب کسان لیڈرس کسان سامعین کے سامنے آکر اپنی بات رکھ رہے ہیں اور احتجاج کے مقام کے پاس بیٹھے کسان انہیں مستقل مزاجی سے سن رہے ہیں -لنگر کا سامان سمیٹ کر کئی لوگ جا چکے تھے، لیکن آج پھر سے لنگر کی تیاری شروع ہوچکی ہے-

غازی پور بارڈر پر مظاہرین کسانوں کے کھانے پینے کا پورا سسٹم پہلے کی طرح شروع کیا جاچکا ہے-مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف تحریک کرنے والے کسانوں میں بھلے پل بھر کیلئے مایوسی چھائی ہو، لیکن آج ان کے ارادے پھر سے بلند ہیں – کار پر لگا یہ نعرہ اس کسان تحریک کے مزاج کو بتانے کیلئے کافی ہے-

error: Content is protected !!