Saturday, February 27, 2021
malegaontimes

سپریم کورٹ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی گئی ہے: کسان تحریک کو لیکر سامنا کا مودی سرکار پر الزام

اب شیوسینا بھی کسان تحریک کو لیکر حکومت پر حملہ آور ہوگئی ہے۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا میں مودی حکومت اور سپریم کورٹ دونوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اداریہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے کندھے پر سے بندوق چلائی ہے۔ اخبار میں لکھا ہے کہ حکومت عدالت کے ذریعے اس احتجاج کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سامنا میں لکھا گیا ہے کہ، ‘سپریم کورٹ نے تین زرعی قوانین کو روکنے کا حکم دیا ہے۔ اب بھی کسان اس تحریک پر قائم ہیں۔ اب حکومت کی طرف سے یہ کہا جائے گا، ‘دیکھو ، کسانوں کا تکبر، یہ تو سپریم کورٹ تک کی نہیں سنتے۔’ سوال سپریم کورٹ کے وقار کا نہیں، ملک کی زرعی پالیسی کا ہے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ زرعی قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ فیصلہ حکومت کو لینا ہوگا۔ حکومت نے بندوق عدالت کے کندھے پر رکھی ہے اور کسانوں پر فائر کیا ہے، لیکن کسان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ شیو سینا نے کسانوں کو متنبہ کیا ہے کہ، ‘ایک بار جب کسان بارڈر سے اپنے گھروں کو واپس آجائیں گے تو، حکومت زرعی قانون پر عدم استحکام ختم کردے گی اور کسانوں کو روک دے گی، لہذا جو کچھ بھی ہوگا اب وہ وہیں رہ کر کیا جائے گا۔’

اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے تینوں نئے قوانین کے نفاذ پر روک لگا دی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی معاملے کو حل کرنے کے لئے ایک 4 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ شیوسینا نے اس کمیٹی میں شامل ممبروں پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ اداریے میں لکھا ہے کہ کل تک چاروں ممبران قوانین کی حمایت کر رہے تھے۔

error: Content is protected !!