malegaontimes

شاہین باغ کی خواتین دوبارہ سپریم کورٹ پہنچی، تحریک سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف شاہین باغ میں احتجاج کررہی خواتین نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ خواتین کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے تحریک کو لے کر اکتوبر ۲۰۲۰ میں حکم دیاگیا تھا اس پر پھر سے سنوائی کی جائے۔ یہ سنوائی کسان تحریک کو لے کر دائر عرضداشت کے ساتھ ہونی چاہئے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۰ میں شاہین باغ تحریک کو لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے پر دائر کی گئی نظر ثانی درخواست ابھی زیر التوا ہے، ایسے میں عرض گزاروں کا کہنا ہے کہ ہمارا مسئلہ بھ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج سے منسلک ہے، تو کسان تحریک کی شنوائی کے ساتھ ہمارے مطالبے کو بھی سنا جائے۔

Ayesha-ladies

عرض گزاروں کا کہنا ہے کہ شاہین باغ معاملے میں عدالت کی جانب سے جو تبصرہ کیاگیا وہ عوام کے مظاہرہ کرنے کے حق پر شک وشبہ پیدا کرتی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ شہریت قانون کے خلاف شاہین باغ میں طویل عرصے سے احتجاج چلا تھا، تب یہاں سے مظاہرین کو ہٹانے کےلیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی، اسی معاملے میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پولس کے پاس کسی بھی عوامی مقام کو خالی کرانے کا حق ہے۔

اب شاہین باغ کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ کسان تحریک کے معاملے میں سپریم کورٹ نے کسی طرح کی دخل ا ندازی سے انکار کیا اور فیصلہ پولس پر ہی چھوڑ دیا یہی وجہ ہے کہ عرض گزاروں نے درخواست کی ہے کہ ہمارے مطالبے پر دوبارہ غور کیا جائے اور ہماری درخواست پر سماعت کی جائے۔

mt ads

error: Content is protected !!