Saturday, February 27, 2021
malegaontimes

مسلم خاتون میجر نے ملکی فوج کا یونیفارم کوڈ تبدیل کروادیا

فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اب جنوبی افریقہ کی مسلح افواج میں مسلم خواتین سپاہیوں اور افسران کا ہیڈ اسکارف پہننا خلاف قانون نہیں ہو گا۔ فوجی یونیفارم اور ہیڈ اسکارف سے متعلق اس تنازعے کا آغاز جون 2018ء میں ہوا تھا۔

قریب ڈھائی برس قبل ملکی فوج نے ایک مسلمان خاتون میجر فاطمہ آئزک کے خلاف یہ کہتے ہوئے مجرمانہ نوعیت کے الزامات عائد کر دیے تھے کہ وہ جان بوجھ کر اپنے سینیئر افسران کے حکم پر عمل درآمد سے انکار اور اپنی ملٹری یونیفارم کے ساتھ سر پر ہیڈ اسکارف پہننے کی مرتکب ہو رہی تھیں۔پھر گزشتہ برس جنوری میں ایک فوجی عدالت نے میجر فاطمہ آئزک پر عائد کردہ الزامات واپس لے لیے تھے۔ ساتھ ہی فوجی عدالت نے انہیں اجازت دے دی تھی کہ وہ صرف استثنائی طور پر اپنی یونیفارم کے نیچے اپنا ہیڈ اسکارف بھی پہن سکتی ہیں۔

ملٹری کورٹ نے تب میجر فاطمہ کو اس بات کا پابند بھی بنا دیا تھا کہ ان کا ہیڈ اسکارف سیاہ رنگ کا ہونا چاہیے اور انہیں اپنی ڈیوٹی کے دوران یونیفارم کے نیچے یہ اسکارف اس طرح پہننا ہو گا کہ ان کے کان ڈھکے ہوئے نا ہوں۔پچھلے سال جنوری میں ایک فوجی عدالت نے میجر فاطمہ کے حق میں فیصلہ تو سنا دیا تھا مگر جنوبی افریقی نیشنل ڈیفنس فورس نے اس بنیاد پر فوجی یونیفارم سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی تھی۔

اس پر اس مسلم فوجی افسر نے اس اقدام کو ملک میں سماجی مساوات سے متعلق معاملات کی ایک عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔اس قانونی جنگ کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے کہ جنوبی افریقی نیشنل ڈیفنس فورس (SANDF) نے اسی ہفتے یونیفارم سے متعلق اپنی مجموعی پالیسی تبدیل کر دی ہے۔ اب تمام مسلم خاتون فوجیوں اور افسران کو یہ اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ چاہیں تو ڈیوٹی کے دوران اپنے سروں کو ہیڈ اسکارف سے ڈھانپ سکتی ہیں۔

فورس کے ترجمان مافی ایمگوبوزی نے جمعرات اٹھائیس جنوری کی شام خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ”نیشنل ڈیفنس فورس کا ڈریس کوڈ اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے تاکہ مسلم خواتین کو فوج میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ہیڈ اسکارف پہننے کی عمومی اجازت ہو۔”اس اعلان کے بعد میجر فاطمہ آئزک کی قانونی نمائندگی کرنے والے مقامی ادارے Legal Resources Centre نے فوج کے ڈریس کوڈ میں تبدیلی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اب میجر فاطمہ کی طرف سے مساوی حقوق کی عدالت میں دائر کیا گیا مقدمہ واپس لے لیا جائے گا۔

error: Content is protected !!