Friday, February 26, 2021
malegaontimes

کورونا کی وجہ سے 20 لاکھ ٹن کم شکر فروخت، آئسکریم اور کولڈ ڈرنکس کی مانگوں میں کمی

ملک کے مختلف حصوں میں ہوٹلوں ، کینٹینوں، ڈھابوں ، ریستورانوں کے افتتاح کے ساتھ شوگر کی طلب میں بھی  دھیرے دھیرے اضافہ ہورہا ہے۔ جس سے کیش ملوں کی معاشی صحت بہتر ہونے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔ لیکن موجودہ سیزن میں کورونا کی وجہ سے شکر کی کھپت 2 ملین ٹن تک متاثر ہوئی ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے جب مرکزی حکومت نے 25 مارچ سے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو ملک کی تمام شوگر ملیں چل رہی تھیں۔ پیداوار ، سپلائی اور مارکیٹنگ کے کاموں میں کوئی پابندی نہیں تھی لیکن ہوٹلوں ، ریستورانوں ، کینٹینوں، شاپنگ مالز، سنیما ہالوں وغیرہ پر پابندی کی وجہ سے آئس کریم اور سافٹ ڈرنکس کی فروخت میں زبردست کمی واقع ہوئی ۔ جس کی وجہ سے شکر کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔

انڈسٹری باڈی کی نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹیو شوگر فیکٹریز (این ایف سی ایس ایف) کے مینیجنگ ڈائریکٹر پرکاش نائک ناروے نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ گرمیوں کا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہر سال آئس کریم، سافٹ ڈرنکس اور دیگر سافٹ ڈرنک مصنوعات کے لیے شکر میں طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن اس سال شکر کی مانگ بہت ہی کم رہی۔ لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو ملیں تقریباً 22 ملین ٹن چینی فروخت نہیں کرسکی۔

Ad:


free-home-delivery


error: Content is protected !!