Friday, February 26, 2021
malegaontimes

تبلیغی جماعت معاملہ، 2 حلف ناموں پر ڈانٹ سننے کے بعد حکومت کا تیسرا حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل

کوروناوائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پر 28 جنوری کو چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے روبرو سماعت متوقع ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق کل چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم کے روبرو معاملہ سماعت کے لیئے پیش ہوگا۔

اسی درمیان گذشتہ کل تیسری مرتبہ مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا گیا، اس سے قبل داخل کردہ دو حلف ناموں پر چیف جسٹس آف انڈیا نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی زیر نگرانی حلف نامہ تیار کرواکرعدالت میں داخل کریں گے۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی ہیں انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کو حلف نامہ موصول ہوچکا ہے نیز سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے کو بھی اس کی کاپی دی جاچکی ہے جو کل جمعیۃ علماء کی جانب سے بحث کریں گے۔

اس ضمن میں گلزار اعظمی نے کہا کہ مرکزی حکومت بعض نیوز چینلوں (گودی میڈیا)کو بچانا چاہتی ہے جنہوں نے منافرت پر مبنی رپورٹنگ کی تھی نیز مرکزی حکومت نے اس کے حامی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر کارروائی نہ ہو اس کے لیئے عدالت میں دو مرتبہ ایسا حلف نامہ داخل کیاتھا جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے اعتراض کیا تھا نیز جمعیۃ علماء ہند پر غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر پٹیشن داخل کرنے کا بے بنیاد الزام بھی لگایا تھا۔واضح رہے کہ نفرت پھیلانے والے میڈیا کے خلاف گزشتہ سال 6اپریل کو پٹیشن داخل کی گئی تھی، اس کی متعدد سماعتیں ہوچکی ہیں اور آخری سماعت 29اکتوبر کوہوئی تھی۔

error: Content is protected !!