Monday, March 8, 2021
malegaontimes

دینی مدارس پر یوگی کی نظر، حکومت نے سرکیولر جاری کیا

ریاست آسام کے بعد اب اترپردیش میں بھی سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس کے وجود پرسوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ یوپی کے 560 امداد یافتہ دینی مدارس پر یوگی حکومت کا شکنجہ کستا جا رہا ہے۔ امداد یافتہ دینی مدارس میں سنگین قسم کی مالی بدعنوانی اور اساتذہ کے استحصال کی شکایات موصول ہونے کے بعد یوگی حکومت امداد یافتہ دینی مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے تمام امداد یافتہ دینی مدارس سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔ یوگی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر نے ریاست کے 500 سے زائد امداد یافتہ دینی مدارس کی نیندیں اڑا کر رکھ د ی ہیں۔

دراصل گذشتہ دنوں دینی مدارس سے ہی تعلق رکھنے والے تین افراد جنید اختر، شمیم احمد اور ریاض قاسمی نے مدارس میں پائی جانے والی سنگین قسم کی مالی بد عنوانیوں کی شکایت وزیر اعظم نریندر مودی سے کی تھی۔ جنید اختر، شمیم احمد اور ریاض قاسمی نے وزیر اعظم مودی کو لکھے خط میں دینی مدارس پرموٹی رقم لے کر تقرری کرنے اور مینجمنٹ کی طرف سے اپنے رشتے داروں کو ملازمت دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ یوگی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں تمام امداد یافتہ مدارس سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔

حکومت کی طرف سے سرکلر موصول ہونے کے بعد دینی مدارس میں سخت بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ ریاست کے دینی مدارس اس سرکلر سے بیحد خفا نظر آ رہے ہیں۔

دریں اثناء حکومت نے ان تمام اساتذہ سے حلف نامہ بھی طلب کرلیا ہے، جو دینی مدارس میں اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حلف نامے میں اساتذہ کو اس بات کی تصدیق کرنی ہوگی کہ ادارے کی جانب سے ان کو پوری تنخواہ مل رہی ہے اور یہ کہ ان کے ساتھ کسی طرح کا استحصال نہیں کیا جا رہا ہے۔ یوگی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جانچ کے بعد جن مدارس میں بدعنوانی کی شکایات درست پائی گئیں، ان کے خلاف سخت تادیبی کار روائی کی جائے گی۔

error: Content is protected !!